Marriage Problems and Increase in Divorce Ratio

Marriage Problems and Increase in Divorce Ratio

Late Marriages

Today, seeing this society makes my heart beat faster. The subject of my writing nowadays is that people are waiting for their daughter’s Proposals. Maybe our daughter will have a good relationship. What is dear to the parents is their Lord and they themselves know but alas, a thousand crores.

Dowry Issues

Alas, this society has entangled us in such filthy rituals that being the daughter of the poor is considered an insult. That is why they Can’t give good gold dowry to his daughter can’t fulfill our demand. Is it not possible to get married without giving gold dowry ? All of you will be compelled to speak the same language that such a law has never commanded. What dowry our Prophet (peace be upon him) gave to his daughter is not hidden from anyone but this is what is heard from ordinary liberal people. Yes, we have to see the new age. In my opinion and in the opinion of Islam, this group is no less than Fitna-e-Akbar. And there are those from poor families who have not given dowry gold to their daughter due to poverty. Those girls who have whitened their hair. The excuse of old age is given. There is a number of people who are not getting along because of their requirements. There is a number of people who are waiting for a good relationship. Most of them are scholars or memorizers. They are imams of mosques who do not belong to a big family whose income is bulk. If it was moderate, then the relationship is good now, but it is thought that their income is not valid, then their relationship is also left, that the income here is less sustenance, it is the gift of Allah Almighty who is in obedience to Allah. Why do you allow them to remain poor and needy? It is not necessary that good and true relationships are rich. If the relationship is getting good then you should trust Allah Almighty.

Cast Issues

Another big reason is that we do not separate relationships, we do not come out of one caste, there should be a city, although it is not obligatory for marriage, but there is a fair number of people who offer this excuse, because of which they do not have a close relationship. It does not happen from afar, then it is like this, when we get older, then we are forced to give birth to a daughter for the elderly.
The most important warning for parents is that more and more girls are being born. Relationships do not come from above. This is the best relationship at least, but our rituals have not left us anywhere. Today, the 10 million girls who are waiting for Marriage/Nikah, this is all a misfortune of our sins. We are living in the fire of our rituals and customs. When it comes to our own shortcomings, we put religion in front of our needs, but in our need, we leave religion behind.

Hand in hand with the sisters who are married in this tempting era. According to my research and research, divorced woman is considered as a stain on the white cloth in the society. Only 10 per cent of women remarry. 90% of women either end their lives or have gray hair because they are not in a relationship again. There are many who go out and light the lamp of life. I would like to draw your attention to this again. My nature is not with me, but I still hope that this writing of mine will benefit someone and save someone’s home.

 

Suggestions for Sisters in Islam

O my forgotten sisters, you are married, then give thanks to Allah that Allah has given us a companion of life, just as Allah has blessed Eve (may Allah be pleased with her) as a companion to Adam (peace be upon him). O my sisters, do not be ungrateful to your husband. Do not discriminate if something is said. Do not tolerate it. Do not defend your word. Look at the situation. How expensive marriages have become. Sacrifice, look at the white beard of your father, why do you destroy your house by defending your word? There is also a male ruler. You have been told to follow him. In Islam, if prostration was prescribed for someone else, then the wife is commanded to prostrate to the husband. By Allah, I am worried about the daughters of the earth. Who can know the condition of parents except them

Suggestions for Parents

In it, I am addressing the parents of the girls. For God’s sake, don’t be a shield for your daughter. This shield is the cause of divorce. If you get depressed, then thousands of people will not be able to ask how the divorce took place. O my sisters, have mercy on yourself. Obey them like a husband. Obey them. Hey, think wisely, today is the time to look for faults in a virgin girl, then where will you see the calamity of divorce?

Talib e Dua Irshad Mustafa Qadri Sukhravi

 

 

اس تحریر کو والدین حضرات وہ بہینیں جن کی شادی ہوچکی ھے اور وہ جو رشتے کے انتظار میں بیٹھی اس تحریرکو ضرور بغور مطالعہ فرمائیں
ایک نظر معاشرے پر پارٹ2 موضوع شادیوں میں رکاوٹ کیوں؟؟ اور طلاق کے بھڑتے کیس کیوں ؟؟؟؟
آج اس معاشرے کو دیکھ کر دل کلیجہ پٹھ جاتا ھے میرے لکھنے کا موضوع آج کل لوگ اپنی بیٹیوں کے رشتوں کے انتظار میں بیٹھے ھیں کہیں ھماری بیٹی کا اچھا رشتہ آجائے ھماری بیٹی اپنی گھر والی ہوجائے مگر ایک جگر کا ٹکڑا کسی کے حوالے کرنا یہ ماں باپ پے کیا گراں ھیں یہ ان کا رب اور وہ خود جانتے ھیں مگر افسوس ھزار کروڑ افسوس اس معاشرے نے ھمیں ایسے ایسے ناسور رسموں رواج میں جکڑ لیا ھے کہ کہ غریب و نادار کی بیٹی ہونا ایک گالی سمجھاجاتا ھے یہی وجہ ھے کہ وہ اپنی بیٹی کو اچھا سونا جہیز نہیں دے سکتا ھماری ڈیمانڈ پوری نہیں کر سکتا کیا شریعت میں جہیز دینا سونا دینا واجب ؟؟؟ کیا سونا جہیز نہ دینے سے نکاح نہیں ہوسکتا ؟؟؟؟ سب ہی یک زبان بولنے پے مجبورہوجاؤ گے کہ ایسا شریعت نے کبھی بھی حکم نہیں دیا ھمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کو کیا جہیز دیا تھا یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں مگر عام لبرل لوگوں سے یہی سنا جاتا ھے یہ پرانے قصے کہانیاں ھیں نئے دور کو دیکھنا پڑتا ھے یہ میرے نزدیک اور اسلام کے نزدیک یہ گروہ فتنہ اکبر سے کم نہیں جناب عالی میں اصلی موضوع کی طرف آتا ہوں کہ نئی ریسرچ کے مطابق ایک کروڑ سے زائد لڑکیاں رشتوں کے انتظار میں ھیں جن میں سے اکثر غریب و نادار گھرانے سے ھیں جو اپنی بیٹی کو غربت کی وجہ سے جہیز سونا نہ دینے کی وجہ سے وہ لڑکیاں اپنی بال سفید کرچکی ھیں کچھ ایسی ھیں جو اچھے رشتے کی تلاش کرکر کے اپنی عمر بڑی ہوجانے کی وجہ سے پہر آخر رشتے آتے بھی تو بڑی عمر کا عزر درپیش کیا جاتا ھے ایک ایسی تعداد بھی ھے جن کو اپنی رکوارمنٹس زیادہ ہونے کی وجہ رشتے تہ نہیں ہوپا رہے ایک ایسی تعداد ھے جو اچھے نیک رشتوں کے انتظار میں تو بیٹھی ھیں یعنی دیندار گھرانے سے مگر المیہ یہ ھے کہ دیندار میں سے اکثر علماء ہوتے ھیں یاحافظ ہوتے ہوتےھیں مسجد امام ہوتے ھیں جن کا بڑی فیملی سے تعلق نہیں ہوتا جن کی آمدنی بلکل متوسط ہوتی تو اب رشتہ اچھا میسر تو ھے مگر یہ یہ سوچ ھے کہ ان کی آمدنی صحیح نہیں ھے پہر ان کے بھی رشتے بھی رہ جاتے ھیں کہ یہاں آمدنی کم رزق یہ اللہ تعالی کی دیت ھے جو اللہ کی اطاعت میں ھے بھلا اللہ ان کو کیوں کر نادار و مفلس رہنے دے گا ضروری نہیں اچھے سچے نیک رشتے مالدار ہی ہوں اگر رشتہ اچھا مل رہا ھے تو آپ اللہ تعالی توکل کریں وہ کل کائنات کا مالک ھے وہ آپ کے توکل کی لاج رکھے گا

شادیوں میں رکاوٹ

ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ھے کہ ھم رشتے دور نہیں کرتے ایک ذات سے نہیں نکلتے ایک شھر ہونا چائیے حلانکہ یہ نکاح کیلئے واجب نہیں مگر ایک ٹھیک ٹھاک تعداد ھے جو یہ عزر پیش کرتی ھے جن کی وجہ سے نہ تو ان کے قریب رشتہ ہوتا ھے نہ پہر دور سے ہوتا پہر یہی ہوتا ھے عمر بڑی ہوجاتی پہر ھمیں مجبور ہوکر عمر رسیدہ کو بیٹی دینی پے مجبور ہوجاتے ھیں
ضروری اتنباہ برائے والدین سے یہی ھے کہ خدارہ خدارہ ایک تو لڑکیاں زیاد پیدا ہورہی ھیں اوپر سے رشتے آتے نہیں اگر اتے بھی ھیں تو ھماری لمبی رکوارمنٹس دیکھ کر سھم جاتے ھیں خدارہ رحم کہائیں اپنی اولاد پر صرف گھر اپنا ہوں رہنے کی جگہ ہو تین وقت کھانےکہلائے کپڑے پہنائ یہ کم از کم رشتہ بھتریں رشتہ ھے مگر ھماری رسمومات نے ھمیں کہیں کا نہیں چھوڑا آج جو ایک کروڑ لڑکیاں رشتوں کے انتظار میں ھیں یہ سب اپنے گناہوں کی نحوست ھے ھم اپنے رسموں رواج کی آگ میں جلس رہے آج رشتے نہیں آتے یہ اپنی کوتاہی ھم اپنی ضرورت کے پیش تو دین کو سامنے کرتے ھیں مگر اپنی ضرورت میں دین کو پیٹھ پیچھے چھوڑ دیتے ھیں

طلاق کے بھڑتے کیس

ھاتھ جوڑ کے التجاء ھے ان بہینوں سے جن کی شادیاں ہوچکی اس پرفتن دور میں۔۔ جتنی رشتے نہ ہونے کی وجوہات میں نے ریسرچ کی ھے شاید کوئ ہو میرے مطالعے اور ریسرچ کے مطابق مطلقہ عورت معاشرے میں سفید کپڑے پے داغ کے مترادف سمجھا جاتا ھے ایک ریسرچ کے مطابق طلاق آقتہ عورت کی دوبارہ شادی کتنی پرسنٹیج پے ہورہی ھے 100 میں سے صرف 10 پرسن عورتوں کی دوبارہ کسی اور سے شادی ہوتی ھے 90پرسن عورت دوبارہ رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے یا تو زندگی پوری ہوجاتی ھے یا سفید بال ہوجاتے ھیں مئکوں میں طعنے کی روٹی ملتی کبھی مطلقہ کا طعنہ دیا جاتا کبھی کیا کبھی منحوس پکارہ جاتا کئ ایسی ھیں جو خوکشی کرکے زندگی کا چراغ گل کردیتی ھیں میں دوبارہ اسی بات کو متوجہ کرنا چاہتا میری طبیعت ساتھ نہیں دے رہی مگر پہر بھی اس امید پے شاید میری اس تحریر سے کسی کا بھلا ہوجائے کسی کا گھر بچ جائے
اے میری بھولی بھلائ بہنوں آپ کی شادی ہوچکی ھے تو اللہ کا شکر بجالائیں کہ اللہ نے ھمیں ایک زندگی کا ھمسفر دے دیا جس طرح اللہ نے حوا رضی اللہ عنھا کوحضرت آدم علیہ اسلام کو ھمسفر سے نوازہ اے میرے بہنوں ناشکری نہ کرنا اپنی شوہر کی بتمیزی نہ کرو اگر کچھ بول جائے ڈاٹ جائے بردشت کیا کرو اپنی بات کا دفاع نہ کیا کرو آپ حالات کو دیکھو شادیاں کتنی مھینگی ہوگئی ھیں آپ کے باپ نے محنت مزدوری کرکے قرضہ لیکر تمھیں ایک نئے گھر میں بیجھا کیا آپنے باپ کی قربانیاں ماں کی قربانیاں ارے اپنے باپ کی سفید داڑھی کی طرف دیکھ لیا کریں کیوں اپنی بات کا دفاع کرکے اپنا گھر تباہ کرتی ہو اے کاش میری بیٹی ہوتی میں کہتا اگر شوہر گھر سے نکال دے میرے طرف نہ آنا شوہر کے قدموں گر جاء یہی تربیت میرے مرشد کی بھی ھے مرد حاکم ھے تم کو ان کی پیروی کا کہا گیا ھے اسلام میں کسی دوسرے کیلئے سجدے کا حکم ہوتا تو بیوی کو شوہر کو سجدے کا حکم ہوتا اے میری بہنوں آپ سوچتی ہوں گی یہ بھی مرد ھے تو مرد کی پاسداری کر رہا ھے واللہ مجھے دھرتی کی بیٹیوں کی فکر ھے جب ایک کروڑ ایک رشتوں کا دیکھا تو میرے بدن پے بجلی گرگئی جن کے گھر میں بیٹیاں ھیں وہ ماں باپ کے حال کو کون جان سکتا سواء ان کے
اس میں لڑکیوں کے والدین سے مخاطب ہوتا ہوں اللہ کا واسطہ آپ اپنی بیٹی کی ڈھال نہ بنیں یہی ڈھال طلاق کا سبب بنتی پہر یہی لڑکی تھمیں بوج لگتی ھے منحوس لگتی جن کی تم پاسداری کرہے ہوتے ہو رشتے ھزار ھزار کا آسراہ دیکر جب طلاق کا دبہ لگ جاتا ھ تو ھزار تو دور کی بات کوئ پوچھنے تک نہیں آتا کہ طلاق کیسی ہوئ اے میری بہنوں تم اپنے آپ پر رحم کہاؤ جیسا بھی شوہر ھے ان کی اطاعت کریں گھر کو جنت آپ ہی بناسکتی مگر زبان کو کنٹرول کرنا ضبط برقرار رکھنا ھے عقلمندی سے کام لینا سوچیں اج کا دور کنواری لڑکی میں عیب ڈھونڈتا ھے پہر طلاق کے آفتہ خلعہ آفتا کو کہاں سے دیکھیں گے اللہ کرے دل میں اتر جائے میری بات اللہ اس تحریر کو تمام مسلمانوں کیلئے نفعہ مند بنائے آمیں
طالب دعا ارشاد مصطفی قادری سکھروی
Top